مرجعیت کی خبریں

img

آیت اللہ یعقوبی حکومت سے مظاہرین کے جائز مطالبات کے فوری حل اور ملک کو درپیش مشکلات اور چیلنجز سے نمٹنے کے لئے منصوبہ بندی کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور مختلف ایجنڈوں کے تحت مطالبات کی راہ میں روڑے اٹکانے والے لوگوں سے مظاہرین کو خبردار اور ہوشیار رہنے کا مطالبہ کرتے ہیں

جمعرات 5 ذی قعد 1439
بمطابق 19.7.2018

آیت اللہ شیخ محمد یعقوبی نے نجف اشرف میں اپنے دفتر میں عراق میں اقوام متحدہ کے وفد کے سربراہ جناب یان کوبش کا استقبال کیا

مہمان نے عراق کے حالیہ سیاسی اور اجتماعی حالات اور مظاہروں میں املاک عامہ اور ملکی اقتصاد کو نقصانات پہچانے پر بے چینی کا اظہار کیا.

جناب آیت اللہ یعقوبی نے مشکلات کے باوجود ثابت قدمی کے ساتھ مسلسل سرگرمیاں انجام دینے پر اپنے مہمان کا شُکریہ ادا کرنے کے بعد فرمایا کہ ان مظاہروں کی ابتداء ابھی سے نہیں ہو رہی بلکہ کئی سالوں سے ان کے اسباب موجود تھے لیکن اسکی چنگاری کسی وقت بھڑک سکتی ہے ملک میں موجود قیادت کو چاہیے کہ پرسکون حالات میں ہی مشکلات کے فوری حل کے لیے حکمت عملی مرتب دے، افراتفری اور پریشان کن حالات میں فیصلے کرنا تو فقط آگ کو وقتی طور پر بجھانے جیسا ہے.

تقریباً تین سال سے نوکریوں کا دروازہ مواقع کم ہونے کی بنیاد پر یا عالمی بینک کی شرائط کو پورا کرنے کے نام پر بند کرنے کی وجہ سے لاکھوں فارغ التحصيل طلبہ میں نا امیدی پیدا ہوئی جبکہ خالی آسامیوں کو پر کر کے اور نئی ضروری نوکریوں کے مواقع پیدا کر کے اس امید کو باقی رکھا جا سکتا تھا خاص طور پر جب کہ عالمی منڈی میں فی بیرل پٹرول کی قیمت 70 ڈالر تک پہنچنے سے ملک کو درپیش مالی مشکلات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے.

اور اسی طرح عوام جن ملازمتوں میں بہتری لانے کا مطالبہ کر رہی ہے یہ ناممکن نہیں ہے اگرچہ تدریجی ہی کیوں نہ ہو لیکن سب سے بڑی مشکل فساد کی مشکل ہے جو ساری ناکامیوں کی جڑ ہے اور پھر جب اس کے ساتھ ان مشکلات کو حل کرنے کے لیے حقیقی ارادہ بھی موجود نہ ہو.

صدر مملکت کی طرف سے گزشتہ پارلیمانی اراکین کو پنشن مہیا کرنے کے فیصلے کو آپ نے غیر حکیمانہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اس کے لیے مناسب وقت کا خیال بھی نہیں رکھا گیا اور فرمایا کہ ایک جانب تو عوام نوکریوں کے حصول کے لیے احتجاجات کر رہی ہے جبکہ دوسری جانب ریاست پارلیمانی اراکین کو خصوصی امتیازات دینے کا فیصلہ کر رہی ہے جبکہ انہوں نے اپنی ذمہ داریوں کو بھی اچھی طرح ادا نہیں کیا کہ جن پر حلف اُٹھایا تھا.

آپ نے مزید فرمایا کہ اس طرح کے فیصلے عوام میں اشتعال انگیزی، سیاسی قیادت سے ناراضگی اور سیاسی نظام سے اعتماد کھو جانے کا باعث بنتے ہیں.

جبکہ مظاہرین کو بھی چاہیے کہ اپنی صفوں میں گھسے شر پسند عناصر سے خبردار رہیں جو مخصوص ایجنڈوں کے تحت ملکی اداروں کو نقصان پہنچا کر فتنہ و فساد برپا کر کے مظاہروں کو اپنے حقیقی مقصد سے دور کرنا چاہتے ہیں، ملکی ادارے عوام کی ملکیت ہیں ناکہ حکومت کی اور اسی طرح وطن کے اقتصاد کو نقصان پہنچانے کی قیمت عوام کو چکانی پڑتی ہے ناکہ فسادی عناصر کو. آپ نے ووٹوں کی گنتی کے عمل کو جلد ختم کرنے، نئی پارلیمنٹ کے انعقاد اور پیشہ ورانہ، قابل اور امانت دار حکومت کے قیام اور دستوری اقدامات کو اٹھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سب سے بڑے ممبر قومی اسمبلی کی سربراہی میں اجلاس بلا کر بڑا بلاک تشکیل دے کر سپیکر قومی اسمبلی، صدر اور وزیراعظم کے انتخاب کے لیے نام پیش کیے جائیں اور پارلیمنٹ کے اندر ہی انکے انتخاب کے لیے ووٹنگ ہو اور حکومت میں شامل ہونے کے لیے سب کو پیشہ وارانہ، امانت داری اور قابلیت کی بنیادوں پر دعوت دی جائے اور جو شرکت نہیں کرنا چاہتا وہ اپنا فیصلہ خود کرے اور فرمایا کہ اس کے لیے سیاسی دھڑوں کی ڈیلوں سے بچا جائے جو ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں.