ہمارے مضامین

img

مذاہب عالم کے علماء سے حضرت امام رضاکے علمی مناظرے

مامون رشید کوخودبھی علمی ذوق تھا اس نے ولی عہدی کے مرحلہ کوطے کرنے کے بعدحضرت امام علی رضاعلیہ السلام سے کافی استفادہ کیا پھراپنے ذوق کے تقاضے پراس نے مذاہب عالم کے علماء کودعوت مناظرہ دی اورہرطرف سے علماء کوطلب کرکے حضرت امام رضاعلیہ السلام سے مقابلہ کرایاعہدمامون میں امام علیہ السلام سے جس قدر مناظرے ہوئے ہیں ان کی تفصیل اکثر کتب میں موجودہے اس سلسلہ میں احتجاجی طبرسی ،بحار،دمعہ ساکبہ، وغیرہ جیسی کتابیں دیکھی جاسکتی ہیں ،میں اختصارکے پیش نظرصرف دوچار مناظرے لکھتاہوں۔

عالم نصاری سے مناظرہ :

مامون رشیدکے عہدمیں نصاری کا ایک بہت بڑاعالم ومناظرشہرت عامہ رکھتاتھا جس کانام ”جاثلیق“ تھااس کی عادت تھی کہ متکلمین اسلام سے کہا کرتاتھا کہ ہم تم دونوں نبوت عیسی اوران کی کتاب پرمتفق ہیں اوراس بات پربھی اتفاق رکھتے ہیں کہ وہ آسمان پرزندہ ہیں اختلاف ہے توصرف نبوت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم میں ہے تم ان کی نبوت کااعتقاد رکھتے ہو اورہمیں انکارہے پھرہم تم ان کی وفات پرمتفق ہوگئے ہیں اب ایسی صورت میں کونسی دلیل تمہارے پاس باقی ہے جوہمارے لیے حجت قرارپائے یہ کلام سن کر اکثرمناظرخاموش ہوجایا کرتے تھے ۔

میں اس نے مذکورہ سوال دھراتے ہوئے کہاکہ پہلے آپ یہ فرمائیں کہ حضرت عیسی کی نبوت اور ان کی کتاب دونوں پرآپ کا ایمان واعتقادہے یانہیں آپ نے ارشادفرمایا، میں اس عیسی کی نبوت کایقینا اعتقاد رکھتا ہوں جس نے ہمارے نبی حضرت محمدمصطفی صلعم کی نبوت کی اپنے حوارین کو بشارت دی ہے اوراس کتاب کی تصدیق کرتا ہوں جس میں یہ بشارت درج ہے جوعیسائی اس کے معترف نہیں اور جو کتاب اس کی شارح اور مصدق نہیں اس پرمیرا ایمان نہیں ہے یہ جواب سن کر جاثلیق خاموش ہوگیا۔ پھرآپ نے ارشادفرمایاکہ اے جاثلیق ہم اس عیسی علیہ السلام کوجس نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کی بشارت دی ،نبی برحق جانتے ہیں مگرتم ان کی تنقیص کرتے ہو، اور کہتے ہو کہ وہ نماز روزہ کے پابند نہ تھے جاثلیق نے کہا کہ ہم تویہ نہیں کہتے وہ توہمیشہ قائم اللیل اورصائم النہار رہا کرتے تھے آپ نے فرمایاعیسی توبنابر اعتقاد نصاری خودمعاذ اللہ خداتھے تویہ روزہ اورنماز کس کے لیے کرتے تھے یہ سن کر جاثلیق مبہوت ہوگیا اورکوئی جواب نہ دے سکا۔ البتہ یہ کہنے لگا کہ جومردوں کوزندہ کرے جذامی کوشفادے نابینا کو بیناکر دے اورپانی پر چلے کیاوہ اس کاسزاوارنہیں کہ اس کی پرستش کی جائے اوراسے معبود سمجھاجائے آپ نے فرمایا الیسع بھی پانی پر چلتے تھے اندھے کوڑی کوشفادیتے تھے اسی طرح حزقیل پیغمبرنے ۳۵ ہزار انسانوں کوساٹھ برس کے بعد زندہ کیا تھا قوم اسرائیل کے بہت سے لوگ طاعون کے خوف سے اپنے گھرچھوڑ کر باہر چلے گئے تھے حق تعالی نے ایک ساعت میں سب کو مار دیا بہت دنوں کے بعدایک نبی استخوان ہائے بوسیدہ پر گزرے تو خداوندتعالی نے ان پروحی نازل کی کہ انہیں آواز دو انہوں نے کہا کہ ائے استخوان بالیہ”استخوان مردہ) اٹھ کھڑے ہو وہ سب بحکم خدا اٹھ کھڑے ہوئے اسی طرح حضرت ابراہیم کے پرندوں کو زندہ کرنے اورحضرت موسی کے کوہ طور پرلے جانے اور رسول خداکے احیاء اموات فرمانے کاحوالہ دے کرفرمایاکہ ان چیزوں پر تورات انجیل اورقرآن مجید کی شہادت موجودہے اگرمردوں کوزندہ کرنے سے انسان خداہوسکتا ہے تو یہ سب انبیاء بھی خداہونے کے مستحق ہیں یہ سن کر وہ چپ ہوگیا اوراس نے اسلام قبول کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہ دیکھا۔

عالم یہودسے مناظرہ :

عالم یہودمیں سے ایک عالم جس کانام”راس الجالوت“ تھا کواپنے علم پر بڑا غرور اورتکبر وناز تھا وہ کسی کوبھی اپنی نظرمیں نہ لاتا تھاایک دن اس کامناظرہ اورمباحثہ فرزند رسول حضرت امام رضاعلیہ السلام سے ہوگیا آپ سے گفتگوکے بعداس نے اپنے علم کی حقیقت جانی اورسمجھا کہ میں خودفریبی میں مبتلاہوں۔

امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضرہونے کے بعد اس نے اپنے خیال کے مطابق بہت سخت سوالات کئے جن کے تسلی بخش اور اطمینان آفرین جوابات سے بہرہ ورہوا جب وہ سوالات کر چکا تو امام علیہ السلام نے فرمایا:کہ اے راس الجالوت ! تم تورات کی اس عبارت کاکیامطلب سمجھتے ہوکہ ”آیا نور سینا سے روشن ہوا جبل ساعیرسے اور ظاہرہوا کوہ فاران سے“ اس نے کہاکہ اسے ہم نے پڑھاضرورہے لیکن اس کی تشریح سے واقف نہیں ہوں۔

آپ نے فرمایاکہ نورسے وحی مرادہے طورسیناسے وہ پہاڑ مرادہے جس پرحضرت موسی خداسے کلام کرتے تھے جبل ساعیرسے محل و مقام عیسی علیہ السلام مراد ہے کوہ فاران سے جبل مکہ مرادہے جوشہرسے ایک منزل کے فاصلے پرواقع ہے پھرفرمایاتم نے حضرت موسی کی یہ وصیت دیکھی ہے کہ تمہارے پاس بنی اخوان سے ایک نبی آئے گا اس کی بات ماننااوراس کے قول کی تصدیق کرنا اس نے کہا ہاں دیکھی ہے آپ نے پوچھاکہ بنی اخوان سے کون مرادہے اس نے کہا معلوم نہیں، آپ نے فرمایا کہ وہ اولاد اسماعیل ہیں، کیوں کہ وہ حضرت ابراہیم کے ایک بیٹے ہیں اور بنی اسرائیل کے مورث اعلی حضرت اسحاق بن ابراہیم کے بھائی ہیں اورانہیں سے حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔

اس کے بعد جبل فاران والی بشارت کی تشریح فرماکر کہا کہ شعیب نبی کاقول توریت میں مذکورہے کہ میں نے دوسوار دیکھے کہ جن کے پرتوسے دنیا روشن ہوگئی، ان میں ایک گدھے پرسواری کئے تھااورایک اونٹ پر، اے راس الجالوت تم بتلا سکتے ہو کہ اس سے کون مرادہیں؟ اس نے انکارکیا، آپ نے فرمایاکہ راکب الحمارسے حضرت عیسی اورر اکب الجمل سے مراد حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم ہیں۔

پھرآپ نے فرمایاکہ تم حضرت حبقوق نبی کے اس قول سے واقف ہو کہ خدا اپنا بیان جبل فاران سے لایا اورتمام آسمان حمدالہی کی (آوازوں) سے بھر گئے اسکی امت اوراس کے لشکرکے سوارخشکی اورتری میں جنگ کرینگے ان پر ایک کتاب آئے گی اورسب کچھ بیت المقدس کی خرابی کے بعد ہوگا اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ یہ بتاؤ کہ تمہارے پاس حضرت موسی علیہ السلام کی نبوت کی کیادلیل ہے اس نے کہاکہ ان سے وہ امور ظاہرہوئے ،جوان سے پہلے کے انبیاء پرنہیں ہوئے تھے مثلا دریائے نیل کاشگافتہ ہونا،عصاکاسانپ بن جانا، ایک پتھرسے بارہ چشمہ جاری ہو جانا اور ید بیضا وغیرہ ، آپ نے فرمایاکہ جوبھی اس قسم کے معجزات کوظاہرکرے اورنبوت کامدعی ہو،اس کی تصدیق کرنی چاہیے اس نے کہانہیں آپ نے فرمایاکیوں؟ کہااس لیے کہ موسی کو جو قربت یا منزلت حق تعالی کے نزدیک تھی وہ کسی کونہیں ہوئی لہذا ہم پرواجب ہے کہ جب تک کوئی شخص بعینہ وہی معجزات وکرامات نہ دکھلائے ہم اس کی نبوت کااقرار نہ کریں ،ارشادفرمایاکہ تم موسی سے پہلے انبیاء مرسلین کی نبوت کاکس طرح اقرارکرتے ہو حالانکہ انہوں نے نہ کوئی دریا شگافتہ کیا، نہ کسی پتھرسے چشمے نکالے نہ ان کاہاتھ روشن ہوا،ا ورنہ ان کاعصا اژدھا بنا،راس الجالوت نے کہاکہ جب ایسے اموروعلامات خاص طورسے ان سے ظاہرہوں جن کے اظہارسے عموما تمام خلائق عاجزہو،تووہ اگرچہ بعینہ ایسے معجزات ہوں یانہ ہوں ان کی تصدیق ہم پرواجب ہوجائے گی حضرت امام رضاعلیہ السلام نے فرمایا کہ حضرت عیسی بھی مردوں کوزندہ کرتے تھے کور مادر نو زاد کو بینا بناتے تھے مبروص کوشفادیتے تھے مٹی کی چڑیا بناکر ہوا میں اڑاتے تھے وہ یہ امور ہیں جن سے عام لوگ عاجزہیں پھرتم ان کوپیغمبرکیوں نہیں مانتے؟ راس الجالوت نے کہاکہ لوگ ایسا کہتے ہیں، مگرہم نے ان کو ایساکرتے دیکھانہیں ہے فرمایا تو کیا آیات ومعجزات موسی کوتم نے بچشم خود دیکھاہے آخروہ بھی تومعتبرلوگوں کی زبانی سنا ہی ہوگاویساہی اگرعیسی کے معجزات ثقہ اورمعتبرلوگوں سے سنو،توتم کوان کی نبوت پرایمان لاناچاہئے اور بالکل اسی طرح حضرت محمدمصطفی کی نبوت و رسالت کااقرار آیات ومعجزات کی روشنی میں کرناچاہیئے سنو ان کاعظیم معجزہ قرآن مجیدہے جس کی فصاحت وبلاغت کاجواب قیامت تک نہیں دیاجاسکے گا یہ سن کروہ خاموش ہوگیا۔

عالم مجوسی سے مناظرہ :

مجوسی یعنی آتش پرست کاایک مشہورعالم ہربذ اکبر حضرت امام رضاعلیہ السلام کی خدمت میں حاضرہوکرعلمی گفتگوکرنے لگا آپ نے اس کے سوالات کے مکمل جوابات عنایت فرمائے اس کے بعداس سے سوال کیا کہ تمہارے پاس رزتشت کی نبوت کی کیا دلیل ہے اس نے کہاکہ انہوں نے ہماری ایسی چیزوں کی طرف رہبری فرمائی ہے جس کی طرف پہلے کسی نے رہنمائی نہیں کی تھی ہمارے اسلاف کہاکرتے تھے کہ زرتشت نے ہمارے لیے وہ ا مورمباح کئے ہیں کہ ان سے پہلے کسی نے نہیں کئے تھے آپ نے فرمایاکہ تم کو اس امرمیں کیاعذرہوسکتاہے کہ کوئی شخص کسی نبی اوررسول کے فضائل و کمالات تم پرروشن کرے اورتم اس کے ماننے میں پس و پیش کرو، مطلب یہ ہے کہ جس طرح تم نے معتبرلوگوں سے سن کرزرتشت کی نبوت مان لی اسی طرح معتبرلوگوں سے سن کرانبیاء اوررسل کی نبوت کے ماننے میں تمہیں کیاعذرہوسکتاہے؟ یہ سن کروہ خاموش ہوگیا۔