ہمارے مضامین

img

امام جعفر صادق علیہ السلام کا تعارف اور مقام ومرتبہ۔۔۔

عالم اہل سنت ابن خلکان نے تحریر کیا ہے کہ: آپ سادات اہل بیت علیہم السلام سے تھے اور آپ کی فضیلت اور آپ کا فضل و کرم محتاج بیان نہیں ہے۔

وفیات الاعیان ،ج 1،ص 105

آپ 17 ربیع الاول 83 ھ مطابق پیر کے دن مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ آپکی ولادت تاریخ کو خدا نے بڑی عزت دے رکھی ہے اور احادیث میں ہے کہ اس تاریخ کو روزہ رکھنا ایک سال کے روزے کے برابر ہے ۔ امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:

یہ میرا فرزند ان چند مخصوص افراد میں سے ہے کہ جن کے وجود سے خدا نے بندوں پر احسان فرمایا ہے اور یہی میرے بعد میرا جانشین ہو گا۔

علماء کا بیان ہے کہ جعفر، جنت میں ایک شیریں نہر کا نام ہے، اسی کی مناسبت سے آپ کا لقب جعفر رکھا گیا ہے ،کیونکہ آپ کا فیض عام جاری نہر کی طرح تھا، لہذا اسی لقب سے ملقب ہوئے۔

ارجح المطالب ،ص 361

ابو عبد اللہ ، جعفر بن محمد بن علی بن الحسن بن علی بن ابی طالب علیہ السلام معروف بہ صادق آل محمد اھل بیت کے چھٹے امام ہیں، جو کہ اپنے والد امام محمد باقر علیہ السلام کی شہادت کے بعد 7 ذی الحجہ سن 114 ھ ق کو اپنے والد محترم کی وصیت کے مطابق امامت کے منصب پر فائز ہوئے۔

آپ کا علمی مقام اور عظمت کا بیان۔۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے دہریوں، قدریوں، کافروں اور یہودیوں و نصاری سے بے شمار علمی مناظرے کیے اور ہمیشہ انہیں شکست دی ۔ عبد الملک بن مروان کے زمانے میں ایک قدریہ مذہب کا مناظر اس کے دربار میں آ کر علماء سے مناظرہ کا خواہشمند ہوا، بادشاہ نے حسب عادت اپنے علماء کو طلب کیا اور ان سے کہا کہ اس قدریہ سے مناظرہ کرو علماء نے اس سے کافی زور آزمائی کی لیکن تمام علماء عاجز آ گئے اسلام کی شکست ہوتے ہوئے دیکھ کر عبد الملک بن مروان نے فورا ایک خط حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام کی خدمت میں مدینہ روانہ کیا اور اس میں تاکید کی کہ آپ ضرور تشریف لائیں حضرت امام محمد باقر کی خدمت میں جب اس کا خط پہنچا تو آپ نے اپنے فرزند حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے فرمایا کہ بیٹا میں ضعیف ہو چکا ہوں تم مناظرہ کے لیے شام چلے جاؤ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے پدر بزرگوار کے حکم پر شام پہنچ گئے۔

عبد الملک بن مروان نے جب امام محمد باقر علیہ السلام کی بجائے امام جعفر صادق علیہ السلام کو دیکھا تو کہنے لگا کہ آپ ابھی کم سن ہیں، ہو سکتا ہے کہ آپ بھی دوسرے علماء کی طرح شکست کھا جائیں، اس لیے مناسب نہیں کہ مجلس مناظرہ منعقد کی جائے حضرت نے ارشاد فرمایا: تو مت ڈرو، اگر خدا نے چاہا تو میں صرف چند منٹ میں مناظرہ ختم کر دوں گا۔

قدریوں کا اعتقاد ہے کہ بندہ ہی سب کچھ ہے، خدا کو بندوں کے معاملہ میں کوئی دخل نہیں، اور نہ خدا کچھ کر سکتا ہے، یعنی خدا کے حکم اور قضا و قدر و ارادہ کو بندوں کے کسی امر میں دخل نہیں لہذا حضرت نے اس کی خواہش پر فرمایا کہ میں تم سے صرف ایک بات کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ تم سورہ حمد پڑھو، اس نے پڑھنا شروع کیا جب وہ ایاک نعبد و ایاک نستعین، پر پہنچا تو آپ نے فرمایا، ٹہر جاؤ اور مجھے اس کا جواب دو کہ جب خدا کو تمہارے اعتقاد کے مطابق تمہارے کسی معاملہ میں دخل دینے کا حق نہیں تو پھر تم اس سے مدد کیوں مانگتے ہو، یہ سن کر وہ خاموش ہو گیا اور کوئی جواب نہ دے سکا، اور مجلس مناظرہ برخواست ہو گئی۔

تشنگانِ علم و حکمت دور درواز سے آتے اور امام جعفر صادق سے فیضیاب ہوا کرتے تھے۔ مورخین آپ سے روایت کرتے اور دانشور کتابی صورت میں آپ کے فرمودات جمع کرتے تھے حتیٰ کہ حفاظ اور محدثین جب کچھ بیان کرتے تو امام جعفر صادق کے ارشادات کا حوالہ دیتے ۔

مؤرخین اس بات پر متفق ہیں امام جعفر صادق نے کسی مدرسہ میں تعلیم حاصل نہیں کی اور نہ کسی اْستاد کے سامنے زانوئے اَدب تہہ کیا۔ آپ کا علم نسل در نسل آپ کے سینے میں منتقل ہوا جس سے ثابت ہوا کہ امام صادق نے جس علم کی روشنی بکھیری وہ دراصل عِلمِ مصطفوی و مرتضوی ہی ہے۔ چار ہزار سے زائد شاگردوں نے بیک وقت اور ایک ہی دور میں آپ کی بارگاہ سے کسب علوم اور نقل روایت کا شرف حاصل کیا۔ جن علوم کی تعلیم آپ کی درسگاہ سے دی جاتی ان میں فقہ کے علاوہ ریاضی فلکیات فزکس کیمسٹری سمیت تمام جدید علوم شامل تھے۔ آپ کی درسگاہ کے فیض سے جہاں قدیم علوم کا احیاء ہوا وہاں جدید علوم کی بھی بنیاد رکھی گئی۔ مسلمانوں میں نابغہ روزگار ہستیاں پیدا ہوئیں

اہل سنت کے چاروں مکاتب فکر کے امام بلا واسطہ یا بالواسطہ امام جعفر صادقؒ علیہ السلام کے شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں خاص طور پر ابو حنیفہ نے تقریباً دو سال تک براہ راست آپ سے کسب فیض کیا۔ آپ کے علمی مقام کا اعتراف کرتے ہوئے ابو حنیفہ نے کہا ہے : میں نے جعفر ابن محمد سے زیادہ عالم کوئی اور شخص نہیں دیکھا۔

ایک اور مقام پر امام ابو حنیفہ نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں گزارے ہوئے دو سالوں کے بارے میں کہا ہے کہ : اگر یہ دو سال نہ ہوتے تو نعمان ہلاک ہو جاتا، لولا سنتان، لھلک النعمان

مالک بن انس حضرت امام جعفر صادق کی علمی اور اخلاقی عظمت کے بارے میں کہتے ہیں کہ میں ایک مدت تک جعفر ابن محمد کی خدمت میں زانوئے ادب تہہ کیا کرتا تھا آپ مزاح بھی فرمایا کرتے تھے ہمیشہ آپ کے لبوں پر تبسم رہتا تھا۔ جب آپ کے سامنے رسول اللہ کا نام مبارک لیا جاتا تو آپ کے چہرے کا رنگ سبز اور زرد ہو جاتا تھا۔ میں نے نہیں دیکھا کہ انہوں نے رسول اللہ سے حدیث بیان کی ہو اور وضو سے نہ ہوں۔ میں جب تک ان کے پاس آیا جایا کرتا تھا میں نے نہیں دیکھا کہ وہ ان تین حالتوں سے خارج ہوں:

یا وہ نماز پڑھتے رہتے تھے، یا قرآن کی تلاوت کر رہے ہوتے تھے یا پھر روزے سے ہوتے تھے۔

مالک بن انس حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی عظمت کے بارے میں ان خیالات نے سمندر کو کوزے میں بند کر دیا کہ کسی آنکھ نے نہیں دیکھا، کسی کان نے نہیں سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں خیال آیا کہ کوئی جعفر ابن محمد سے بھی افضل ہو سکتا ہے۔

علامہ ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ میں بیان کیا ہے کہ:

تمام بلادِ اسلامیہ میں ان کے علم و حکمت کا شہرہ تھا۔

علامہ شبلی نعمانی سیرۃ النعمان میں لکھتے ہیں کہ:

حضرت امام ابو حنیفہ لاکھ مجتہد ہی سہی لیکن امام جعفر صادق کے شاگرد تھے۔ اور علم کے چشمے اھل بیت کے گھر سے نکلے ھیں اور گھر والا گھر کی بات بھتر جانتا ھے ۔۔۔۔

مسیح عالم عارف ثامر استاد دانش کدہ مباحث شرقی قاہرہ نے لکھا ہے کہ:

جو شخص بے غرض متعصب سے پاک ہو کر امام جعفر بن محمد الصادق کی شخصیت کے بارے میں جدید علمی اصول کی پیروی کرتے ہوئے ہر قسم کے تعصبات سے بے نیاز ہو کر علمی و حقیقی تحلیل و تجزیہ میں مشغول ہو گا، تو اس کیلئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اس بات کا اعتراف کرے کہ امام کی شخصیت ایسا فلسفی مجموعہ ہے جسے اپنے اوپر اعتماد و بھروسہ ہے جو بہت سے نظریات، خیالات اور فکریات کا سرچشمہ ہیں جو نئے افکار و خیالات و جدید احکامات کے نہ صرف مؤسس ہیں بلکہ انھوں نے اس بارے میں نئی نئی راہیں بھی دکھائی ہیں۔

ابن خلکان کہتے ہیں کہ:

آپ سادات اہلبیت میں سے تھے اور آپ کی فضیلت کسی بیان کی محتاج نہیں۔

تحریر ۔۔۔ریاض قادری