آیت اللہ الشیخ الیعقوبی کا تعارف

history
بسم اللہ الرحمن الرحیم

آیت اللہ الشیخ محمد الیعقوبی (دام ظله الشريف) کی زندگی پر ایک نظر

آپ کی ولادت نجف اشرف میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یوم دلادت کی صبح سن 1380ہجری بموافق ستمبر 1960 عیسوی کو ہوئی۔ آپ کی پرورش خطابت اور ادب میں مشہور خاندان کے علمی اور دینی ماحول میں ہوئی۔ ادب، اشعار اور خطابت کے شعبے میں آپ کا خاندان شہرت کا حامل رہا ہے جیسے ”الایمان الشعیرہ“ میگزین(جس کی نجف اشرف میں نشر و اشاعت ہوتی ہے) کے مدیر آپ کے والد شیخ موسی تھے، آپ کے نانا شیخ مہدی اور آپ کے دادا شیخ یعقوب دونوں آيت الله شیخ جعفر شوشتری(رہ) اور آيت الله شیخ حسین قلی ہمدانی(رہ) کے اخلاقی اور عرفانی مکتب سے تعلیم یافتہ تھے۔

آپ اپنے والد کے ساتھ سن 1968عیسوی میں بغداد منتقل ہوگئے، چونکہ آپ کے والد مرحوم مرجع اعلیٰ آيت الله العظمى سید محسن الحکیم کے فرزند مرحوم شہید سید مہدی الحکیم کے ساتھ سیاسی، اجتماعی اور دینی امور میں مربوط تھے اور انھوں نے اپنی دینی اور اجتماعی سرگرمی کا مرکز بغداد میں قائم کیا ہوا تھا۔

آپ نے دینی معارف کے حصول کا آغاز بچپن سے ہی کردیا تھا۔ آپ اپنے والد کے ساتھ خطابت و تقاریر کے پروگراموں میں شرکت کرتے تھے اور اس کو بغور سنتے تھے اور پھر واپس پلٹ کر اس کو اپنی والدہ گرامی کے سامنے دہراتے تھے۔ آپ کے والد علماءاور دانشوروں کے ساتھ کی ملاقات میں بھی آپ کو شریک کرتے تھے۔ آپ نے دس سال سے بھی کم عمر میں کتابوں کا مطالعہ شروع کردیا تھا- " الخمرام الخبائث "(شراب تمام برائیوں کی جڑ ہے) کے عنوان سے آپ نے ایک وسیع تحریر زمانہ بلوغ تک پہنچنے سے پہلے ہی تالیف کردی تھی اور جیسے جیسے عمر میں اضافہ ہوتا گیا، کتابوں کے مطالعہ کی گہرائی میں اور اضافہ ہوتا گیا۔

آپ موسم گرما کی تعطیلات میں آيت الله سید علی علوی کی جانب سے بغداد کے محلہ حی العبدی میں قائم دینی مدرسہ سے وابستہ رہے۔

آپ نے سکول کی تعلیم بغداد میں مکمل کی، یہاں تک کہ سن 1982 میں بغداد کی انجینئرنگ یونیورسٹی سے شعبہ تعمیرات میں انجینئرنگ کی سند حاصل کی۔ اس وقت حکومت کی جانب سے فوجی خدمات کو لازمی قرار دیا گیا تھا اور عراق اور ایران کے درمیان جنگ چل رہی تھی، ظالم حکومت اور ان کے کارندوں اور جاسوسوں کا خوف تھا، فوجی خدمت سے فرار اختیار کرنے کی صورت میں جان کو خطرہ تھا، پھر بھی آپ نے ظالموں کا مددگار قرار پانے سے بچنے کے لیے عليحدگى اختیار کرلی اور تنہائی کی راہ اپنا کر اپنے آپ کو اس شر سے محفوظ کرلیا۔

البتہ یہ فرصت کافی فائدہ مند رہی- اس دوران آپ كو تفکر، تحقیق اور تالیف کے موقع میسر آئے، آپ نے تحریر اور تالیف کا آغاز کیا جس میں آپ کی جانب سے تحریر شدہ "دور الائمة فی الحیاة الاسلامیة" کتاب شامل ہے۔ یہ زمانہ ظلم و ستم اور سختی کا تھا، جس میں اپنے عملی کردار کی ادائیگی کے لیے راہنمائی حاصل کرنا مشکل تھا۔ سال 1985ء میں خداوند متعال نے شہید آیت اللہ العظمی سید محمد صادق صدر جو شہید صدر ثانی کے نام سے مشہور ہيں کے ساتھ خفیہ اور رازدارانہ روابط استوار ہو گئے۔ اس ارتباط اور خفیہ خط و کتاب کے نتیجہ میں آيت الله شیخ محمد یعقوبی کے قلم سے اسلامی مسائل، اخلاق اور تہذیب نفس کے موضوعات پر مشتمل کتاب " شہید صدر الثانی کما اعرفہ و قنادیل العارفین" وجود میں آئی اور دو کتابیں آیت اللہ العظمی شہید صدر(رہ) کے توسط سے تالیف کیں کہ جن میں ایک تو "ما وراء الفقہ" کے نام سے مفصل کتاب اور دوسری "نظرة فی فلسفة الاحداث فی عالم المعاصر" تالیف کی۔

آپ ایران و عراق جنگ کے بعد سال 1998ء میں نجف اشرف واپس آ گئے اور ماہ شعبان کی انقلابی تحریک کے دوران شہید ہونے والے علامہ سید محسن موسوی غریفی کی دختر سے شادى کی۔

آپ نے سال 1991ء کے ماہ شعبان کی انقلابی تحریک کے درمیان مقدس شہر کربلا کے دفاع کے لیے مجاہدین کے ساتھ نجف سے قيام کیا البتہ بعد میں ظالم حکومت کے قبضے کے بعد آپ دیگر غیر مسلح افراد کے ساتھ نجف واپس آ گئے اور پھر اس طرح کی جدوجہد میں شرکت نہ کر سکے، مگر آپ قلم اور زبان کے ذریعے سے ان انقلابی سرگرمیوں میں مصروف افراد اور انقلابی نوجوانوں کی مدد کرتے رہے۔ اس کے متعلق آپ کے اعلانات اور بیانات حضرت علی علیہ السلام کے حرم مطہر کے صحن اور اطراف کے حصوں میں لاﺅڈ اسپیکر پر سنائے جاتے تھے ۔

مجاہدین کی جانب سے آیت اللہ العظمیٰ سید شہید صدر ثانی(رہ) کو انقلابی رہبر کے طور پر قبول کیے جانے اور آپ کی قیادت میں جدوجہد کو آگے بڑھانے کے عہد و پیمان کے بعد اس تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے ركے ہوئے امور کی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے پانچ گروہ تشکیل دیے گئے، جو سیاسی اور دیگر امور میں مصروف کار تھے یہاں تک کہ بعد میں بعث صدامی حکومت کی جانب سے ان سرگرمیوں پر پابندی لگا دی۔ سال 1992ء (شعبان 1412هجرى) میں آپ نے عظيم مرجع آیت اللہ العظمی خوئی(رہ) کے دست مبارک سے روحانی لباس زیب تن کیا۔

آپ آیت اللہ العظمیٰ شہید صدر ثانی(رہ) کے اعلان مرجعیت کے ابتدائی زمانہ میں تنہا قابل بھروسہ اور اُن کے حامی تھے۔ اس بات کا اظہار خود شہید صدر ثانی(رہ) نے دوسرے لوگوں کے سامنے کیا تھا۔

آیت اللہ العظمیٰ شہید صدر(رہ) نے حوزہ اور یونیورسٹی کو متحد کرنے کی غرض سے ”جامعة الصدر“ کی بنیاد رکھی، تب ان کو ایک ایسی جامع شخصیت کی ضرورت تھی جو اس ادارے کے بنیادی مقاصد کے حصول کے لیے یونیورسٹی اور حوزہ دونوں کے اعتبار سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو، اس مقصد کے لیے ان کو آیت اللہ شیخ محمد یعقوبی کے علاوہ کوئی شخصیت میسر نہ آئی جو دونوں اعتبار سے اعلیٰ تعلیمی قابلیت کى حامل ہو، یہی وہ چیز تھی کہ جس کی وجہ سے آیت اللہ العظمی شہید صدر(رہ) نے ماہ صفر 1419 هجري میں اس ادارے کے سربراہ کے طور پر آپ کو متعارف کروایا۔

آیت اللہ العظمیٰ شہید صدر(رہ) شیخ محمد یعقوبی سے خصوصی توجہ اور محبت رکھتے تھے جس کا اظہار وہ دوسروں کے سامنے بھی مختلف جملوں اور تعبیرات کے ذریعے کرتے تھے۔ جیسا کہ "المشتق عندالاصولیین" اور"قنادیل العارفین" جیسی کتابوں کے مقدمہ میں اس کا تذکرہ موجود ہے۔ خاص طور سے آپ نے اپنی شہادت سے پانچ ماہ قبل پانچ جمادی الثانی 1319 هجرى کو جامعة الصدر طلاب اور فارغ التحصیل ہونے والے افراد کے درمیان آيت الله شیخ یعقوبی کو اپنے جانشین کے عنوان سے متعارف کراتے ہوئے اس طرح فرمايا :"۔۔۔۔۔ اس وقت ہم یہ کہہ سکتے ہیں حوزہ کے لیے میرے بعد قابل ترین شخصیت جناب شیخ محمد یعقوبی قرار پائیں گے، اگر ان کے اجتہاد کی تائید ہو جائے تو "۔

آپ نے حوزہ کے طریقہ کا لحاظ کرتے ہوئے اجتہاد کے اعلان سے صرف نظر کیا یہاں تک کہ آپ نے اپنی فقہی اور استدلالی تحریر شدہ کتابوں کو سال 1420 هجرى میں تدوین کرکے طباعت کے مراحل سے گذار دیا جس کے بعد ان کتب کی علمی کیفیت کو دیکھ کر علما نے ان کتابوں کے مولف کی عالم اور مجتہد کے طور پر پہچان کروائی۔ حضرت آیت اللہ محمد علی گرامی قمی (کہ جن کو آیت اللہ منتظری(رہ) نے اجتہاد کا اجازہ دیا تھا)، حضرت آیت اللہ محمد صادقی تہرانی(رہ) (جنھوں نے اجتہاد کا اجازہ خود آیت اللہ العظمی خوئی(رہ) سے حاصل کیا تھا) اور دیگر نے سال 2004ء میں آپ کے مجتہد ہونے کی گواہی دی۔

ذی قعدہ سن 1419 هجرى میں آیت اللہ العظمی شہید صدر(رہ) کی شہادت سے پہلے آپ ہمیشہ ان کے ہمراہ ہوتے تھے اور شہادت کے بعد ظالم حکومت کی سختی کے دوران بھی جن چند افراد کو شہید صدر(رہ) کی آخری رسومات میں شرکت کی اجازت دی گئی تھی ان میں شہید کے دو فرزندوں کے علاوہ آپ شامل تھے۔ آپ نے ان دونوں فرزندوں کے ساتھ مل کر نماز جنازہ پڑھ کر شہید صدر(رہ) کو سپرد خاک کیا تھا۔

شہید صدر(رہ) کی شہادت کی بعد عراق میں جس اسلامی تحریک کی بنیاد شہید نے رکھی تھی اس کی قیادت آپ کے ہاتھ میں آئی۔ آپ نے اس تحریک کے تحفظ کے لیے جدوجہد کی اور اس تحریک کے خاتمہ کے لیے بعث ظالم حکومت کے خوف و ہراس اور سختی کا مقابلہ کیا اور اس مقصد کے لیے نماز جمعہ کے اجتماعات کو بہترین ذریعہ بنایا۔

حوزوی تعلیم:

دیگر کئی علمی مصروفیات کے علاوہ آپ نے حوزوی تعلیم میں شرح لمعہ اور علامہ مطفر(رہ) کی تحریر کردہ کتاب اصول فقہ کے دروس مرحوم سید محمد کلانتر (رہ) کی سربراہی اور زیر نگرانی نجف اشرف کے موسسہ اسلامی میں حاصل کیے اور انتہائی دلچسپی کے ساتھ مختصر مدت میں ان دروس کو مکمل کر کے آیت اللہ العظمیٰ شہید صدر(رہ) کی ترغیب اور تشویق کے سبب آپ نے درس خارج میں شرکت کا آغاز کردیا جب کہ ابھی آپ سطوح یعنی مکاسب اور کفایہ کے دروس کی تعلیم حاصل کرنے میں مشغول تھے۔ "اصول لفظیہ" کی ابحاث کے دروس آپ نے شوال 1414 هجرى سے شہید صدر(رہ) کی شہادت تک آپ کی شاگردی میں حاصل کیے جب کہ "اصول عملیہ "کی ابحاث کے دروس آیت اللہ العظمی شیخ محمد اسحاق فیاض کے پاس سن 1417هجرى سے 1421هجرى تک حاصل کیے۔ جب کہ فقہ کے دروس کو آیت اللہ العظمی سیستانی کے پاس سن 1415 هجرى سے 1420 هجرى تک اور مرحوم آیت اللہ العظمی شہید میرزا علی غروی (رہ) کے پاس 1416 هجرى سے 1418 هجرى تک حاصل کیے۔

آپ نے نجف اشرف کے موسسہ اسلامی کی ایک سالہ تعلیم کے بعد ہی مقدمات کی تدریس شروع کردی تھی۔ اس کے بعد آپ نے لمعہ اور اصول فقہ کی اور اس کے بعد مکاسب اور کفایہ کی تدریس کی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ آپ کے دروس میں انتہائی دلچسپی کے ساتھ بڑی تعداد میں طلاب شرکت کرتے ہیں۔

شعبان سن 1427هجرى میں آپ نے درس خارج کی تدریس شروع کی۔ آپ نے اہمیت کے حامل ان مسائل کا انتخاب کیا جو فقہاء کے درمیان اختلافی رہے۔ ان کی ابحاث میں گہرائی کے ساتھ کی گئی تحقیقات نے علمی ذوق ابهارنے ميں بہت مدد فراہم کی۔ آپ کی اس روش کے سبب آپ کے درس خارج کے دائرے کو وسعت حاصل ہوئی۔ آپ کے درس کی دوسری امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ آپ اپنے درس میں دونوں عظیم حوزات یعنی نجف اور قم کے قدیم اورجدید علماء کے نظریات کو پیش کرتے ہیں، اس بنا پر حوزہ کے اساتذہ اور علماء آپ کے گرد حصول علم کے لیے جمع ہو گئے ۔ آپ کى بیان شدہ ابحاث کو ”فقہ الخلاف“ کے نام سے تشکیل شدہ کتاب میں پیش کیا جا رہا ہے کہ جس کی پانچ جلدیں تیار ہوچکی ہیں، جن میں 38 مسائل کو سپرد قلم کیا گیا ہے ، یہ کتاب چهپ چكى ہے۔

"سبل السلام" کے نام سے آپ کا رسالہ عملیہ بھی موجود ہے۔ اس کی پہلی جلد عبادات کے مسائل پر اور دوسری جلد معاملات کے مسائل پر مشتمل ہے۔ سن 1430 هجرى میں پہلی دفعہ اس کو شائع کیا گیا ۔ مناسک حج کے متعلق مفصل اور جامع کتاب کئی دفعہ شائع ہو چکی ہے۔

آپ کی تالیفات:

مذكورہ كتب کے علاوہ آپ نے متعدد کتابیں تحریر کی ہیں، جن میں: الریاضیات للفقیہ، ملامح من تاریخ، خطاب القیادة الدینیة فی العراق(5جلد)، ثلاثة یشکون،دور الائمة فی الحیاة الاسلامیة، قنادیل العارفین، المشتق عند الاصولین (شہید صدر(رہ) کے دروس کی تحریری شکل)، الاسوة الحسنہ، المعالم المستقیلة للحوزہ العلمیة وغيرہ شامل ہیں ۔

آپ نے معاشرتی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے دیگر مختلف عنوانات کو بھی شامل تدوین و تالیف کیا ہے۔ آپ نے اپنے بعض شاگردوں کو بھی مخصوص موضوعات پر تحریر و تحقیق کے امور میں مشغول کیا ہے۔ اپنے شاگردوں کی اچھی تعلیم و تربیت کی خاطر اور ان کی صلاحیتوں کو ترقی دینے کے مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ ان کے کاموں کی خود نگرانی فرماتے ہیں- ان شاگردوں کی جانب سے تحریر شدہ سینکڑوں تحریرات اور تقاریر کو محفوظ کیا گیا ہے۔ ان میں سے بعض سیاسی موضوعات سے تعلق رکھنے والی تحریرات کو آپ کی کتاب "ملامح من تاریخ و خطاب القیادة الدینیة فی العراق" میں محفوظ کیا گیا ہے۔

مقاصد اور منصوبے:

عراق میں صفر 1425 میں آمرانہ نظام کے خاتمے اور بعث حکومت کے شکنجے سے آزاد ہو کر مختلف امور کی انجام دہی کے لیے راہ ہموار ہو جانے کے بعد آپ سمجھتے ہیں کہ مرجعیت کے تحت تشکیل پانے والے منصوبے (ادارہ کے تحت) عمومی اور معاشرتی سطح پر ہونے چاہیں نہ کہ انفرادی طور پر۔

عراق میں ظالم حکومت کے خاتمہ کے بعد آپ نے اپنے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے تاریخ 27 صفر 1424ھ ق، 30 اپریل 2003 ، جماعة الفضلاء کا ادارہ قائم کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی۔

حوزہ علمیہ کے اہل علم پر مشتمل یہ ادارہ معاشرتی سرگرمیوں میں اضافے اور مختلف جہات سے کاموں کو انجام دینے کی عمومی فکر تشکیل دینے کے مقصد کے تحت آگے بڑھ رہا ہے، اس ادارے کا بنیادی مقصد طلاب میں ایک انقلابی سوچ اور ولولہ پیدا کرنا ہے۔

آپ نے اپنے بغداد کے تین روزہ دورے کے درمیان 22 صفر 1424ھ ق کو حضرت امام کاظم علیہ السلام کے حرم میں نماز جمعہ کی امامت کی اور جمعہ کے خطبے کے درمیان لوگوں کو پیدا شدہ جدید صورت حال میں، کس فکر کے تحت کن امور کو انجام دینا چاہیے، اس جانب متوجہ کیا۔ آپ نے اپنے مطالبات کی منظوری کی خاطر احتجاجی جلوس کا اعلان کیا جو بروز منگل بغداد کے مرکزمیدان فردوس کی جانب آپ کی قیادت میں روانہ ہوا، یہ کئی کلومیٹر طویل تھا اور کثرت سے لوگوں نے اس میں شرکت کی۔

آپ کے بغداد کے سفر کے دوران دیگر سرگرمیوں میں، 2003میں صدام حکومت کے خاتمہ کے بعد، مختلف اسلامی اور قومی سرگرمیوں میں مشغول یونیورسٹی کے اساتذہ اور دانشوروں سے ملاقاتیں بھی شامل تھیں۔ ان دانشوروں اور اساتذہ نے “حزب الفضیلة الاسلامیة” کے نام سے سیاسی جماعت بنائی، یہ اپنی جماعت کو پورے عراق میں پھیلا کر اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ اس وقت عراقی اسمبلی میں اس جماعت کو کچھ نشستیں بھی حاصل ہیں۔

آپ کے دیگر منصوبوں میں ایسے اداروں کا قیام بھی ہے جو مختلف شعبوں سے وابستہ تنظیموں کو مدد فراہم کریں جیسے اساتذہ اور یونیورسٹی سے فارغ التحصیل افراد کی تنظیم “جامعون”، انجینئرز کی تنظیم “تجمع المھند سین الاسلامی” خواتین کی تنظیم “رابطہ بنات المصطفیٰ(ص) ” اوردیگر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کی آپ مدد اور تعاون فراہم کرتے ہیں۔

“جماعة الفضلاء” کے علاوہ پروردگار عالم کے لطف وکرم سے آپ کی جانب سے اپنے مقاصد کی تکمیل کی خاطر قائم اور اب تک سرگرم ادارے مندرجہ ذیل ہیں:

۱۔ “صدر اسلامی یونیورسٹی” یہ 20شعبوں کے ساتھ حوزہ علمیہ نجف اشرف کے مرکز کے زیرنگرانی مختلف صوبوں میں سرگرم ہے جس میں ہزاروں طلبا زیر تعلیم ہیں۔

۲۔ “الزھرا(س) یونیورسٹی” اس کے 14سے زائد شعبے ہیں، اس کے کیمپس مختلف شہروں میں قائم ہیں جن میں سینکڑوں طالبات تربیت پا رہی ہیں۔ یہ الصدر یونیورسٹی کی طرح سے ہی ہے مگر یہ خواتین کے ساتھ مخصوص ہے۔

۳۔ مختلف ٹیلی وژن نیٹ ورک جیسے سیٹلائیٹ نیٹ ورک “النعیم”، بغداد سے “البلاد” نیٹ ورک، بصرہ سے “الامل” نیٹورک اور ناصریہ سے “سبل الاسلام” نیٹ ورک کی ذریعے مختلف پروگرام نشر کیے جاتے ہیں۔

۴۔ دسیوں اداروں اور دینی، ثقافتی، معاشرتی اور فلاحی مراکز کا قیام۔

۵۔ سادات کی طرف خصوصی توجہ دی گئی ہے تاکہ آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذریت کی سرپرستی، مدد اور کمک کی جائے، تاکہ معاشرے پر ان کے اثرات کو مؤثر بنایا جاسکے۔

آپ کے توسط سے وجود میں آنے والے دیگر پروگراموں میں 3 جمادی الثانی کو زیارت فاطمیہ (سلام اللہ علیہا) کا خصوصی اہتمام شامل ہے، جس میں اس روز سب سے پہلے آپ سلام اللہ علیہا کی شہادت کی مناسبت سے عزاداری اوراس حوالے سے مجالس منعقد ہوتی ہیں؛ مصائب کا بیان ہوتا ہے؛ پھر تشییع جنازہ کی صورت میں جلوس حضرت امیرالمومنین امام علی علیہ السلام کے حرم مطہر کی طرف انتہائی حزن وغم کے ساتھ لے جایا جاتا ہے؛ یوں آپ (ع) کو صدیقہ کونین سلام اللہ علیہا کا پرسہ دیا جاتا ہے۔ اس خصوصی زیارت فاطمیہ (سلام اللہ علیہا) کا آغاز سال 1427ھ ق سے ہوا۔ اسی طرح محرم الحرام میں بصیرت حسینی علیہ السلام کے عنوان سے کالج اور یونیورسٹی کے اساتذہ کے لیے مختلف گروپ تشکیل دیے جاتے ہیں جن میں تقریباً بیس ہزار افراد شامل ہوکر کربلا معلیٰ میں واقعہ عاشورا کی یاد مناتے ہیں۔

آپ کی زندگی کے متعلق زیادہ آگاہی حاصل کرنے کے لیے آپ کے قلم سے تحریر شدہ مندرجہ ذیل کتابوں کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے:

۱۔ الشہید الصدر الثانی کما اعرفہ.

۲۔قنادیل العارفین۔

۳۔ الشیخ موسی الیعقوبی: حیاة، شعرہ۔

۴۔ملامح من تاریخ و خطاب القیادة الدینیة فی العراق۔